11 اشعار

ابھی اک شور سا اٹھا ہے کہیں

Abhi ek shor sa utha hai kahin

ابھی اک شور سا اٹھا ہے کہیں

«ابھی اک شور سا اٹھا ہے کہیں» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

ابھی اک شور سا اٹھا ہے کہیںکوئی خاموش ہو گیا ہے کہیں

ہے کچھ ایسا کہ جیسے یہ سب کچھاس سے پہلے بھی ہو چکا ہے کہیں

تجھ کو کیا ہو گیا کہ چیزوں کوکہیں رکھتا ہے ڈھونڈھتا ہے کہیں

جو یہاں سے کہیں نہ جاتا تھاوہ یہاں سے چلا گیا ہے کہیں

آج شمشان کی سی بو ہے یہاںکیا کوئی جسم جل رہا ہے کہیں

ہم کسی کے نہیں جہاں کے سواایسی وہ خاص بات کیا ہے کہیں

تو مجھے ڈھونڈ میں تجھے ڈھونڈوںکوئی ہم میں سے رہ گیا ہے کہیں

کتنی وحشت ہے درمیان ہجومجس کو دیکھو گیا ہوا ہے کہیں

میں تو اب شہر میں کہیں بھی نہیںکیا مرا نام بھی لکھا ہے کہیں

اسی کمرے سے کوئی ہو کے وداعاسی کمرے میں چھپ گیا ہے کہیں

مل کے ہر شخص سے ہوا محسوسمجھ سے یہ شخص مل چکا ہے کہیں

— جون ایلیا