14 اشعار

اے صبح میں اب کہاں رہا ہوں

Aye subah main ab kahan raha hoon

اے صبح میں اب کہاں رہا ہوں

«اے صبح میں اب کہاں رہا ہوں» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

اے صبح میں اب کہاں رہا ہوںخوابوں ہی میں صرف ہو چکا ہوں

سب میرے بغیر مطمئن ہوںمیں سب کے بغیر جی رہا ہوں

کیا ہے جو بدل گئی ہے دنیامیں بھی تو بہت بدل گیا ہوں

گو اپنے ہزار نام رکھ لوںپر اپنے سوا میں اور کیا ہوں

میں جرم کا اعتراف کر کےکچھ اور ہے جو چھپا گیا ہوں

میں اور فقط اسی کی خواہشاخلاق میں جھوٹ بولتا ہوں

اک شخص جو مجھ سے وقت لے کرآج آ نہ سکا تو خوش ہوا ہوں

ہر شخص سے بے نیاز ہو جاپھر سب سے یہ کہہ کہ میں خدا ہوں

چرکے تو تجھے دیے ہیں میں نےپر خون بھی میں ہی تھوکتا ہوں

رویا ہوں تو اپنے دوستوں میںپر تجھ سے تو ہنس کے ہی ملا ہوں

اے شخص میں تیری جستجو سےبیزار نہیں ہوں تھک گیا ہوں

میں شمع سحر کا نغمہ گر تھااب تھک کے کراہنے لگا ہوں

کل پر ہی رکھو وفا کی باتیںمیں آج بہت بوجھا ہوا ہوں

کوئی بھی نہیں ہے مجھ سے نادمبس طے یہ ہوا کہ میں برا ہوں

— جون ایلیا