14 اشعار

عیش امید ہی سے خطرہ ہے

Aish-e-ummeed hi se khatra hai

عیش امید ہی سے خطرہ ہے

«عیش امید ہی سے خطرہ ہے» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

عیش امید ہی سے خطرہ ہےدل کو اب دل دہی سے خطرہ ہے

ہے کچھ ایسا کہ اس کی جلوت میںہمیں اپنی کمی سے خطرہ ہے

جس کے آغوش کا ہوں دیوانہاس کے آغوش ہی سے خطرہ ہے

یاد کی دھوپ تو ہے روز کی باتہاں مجھے چاندنی سے خطرہ ہے

ہے عجب کچھ معاملہ درپیشعقل کو آگہی سے خطرہ ہے

شہر غدار جان لے کہ تجھےایک امروہوی سے خطرہ ہے

ہے عجب طور حالت گریہکہ مژہ کو نمی سے خطرہ ہے

حال خوش لکھنؤ کا دلی کابس انہیں مصحفیؔ سے خطرہ ہے

آسمانوں میں ہے خدا تنہااور ہر آدمی سے خطرہ ہے

میں کہوں کس طرح یہ بات اس سےتجھ کو جانم مجھی سے خطرہ ہے

آج بھی اے کنار بان مجھےتیری اک سانولی سے خطرہ ہے

ان لبوں کا لہو نہ پی جاؤںاپنی تشنہ لبی سے خطرہ ہے

جونؔ ہی تو ہے جونؔ کے درپئےمیرؔ کو میرؔ ہی سے خطرہ ہے

اب نہیں کوئی بات خطرے کیاب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے

— جون ایلیا