14 اشعار

اپنا خاکہ لگتا ہوں

Apna khaaka lagta hoon

اپنا خاکہ لگتا ہوں

«اپنا خاکہ لگتا ہوں» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

اپنا خاکہ لگتا ہوںایک تماشا لگتا ہوں

آئینوں کو زنگ لگااب میں کیسا لگتا ہوں

اب میں کوئی شخص نہیںاس کا سایا لگتا ہوں

سارے رشتے تشنہ ہیںکیا میں دریا لگتا ہوں

اس سے گلے مل کر خود کوتنہا تنہا لگتا ہوں

خود کو میں سب آنکھوں میںدھندلا دھندلا لگتا ہوں

میں ہر لمحہ اس گھر سےجانے والا لگتا ہوں

کیا ہوئے وہ سب لوگ کہ میںسونا سونا لگتا ہوں

مصلحت اس میں کیا ہے میریٹوٹا پھوٹا لگتا ہوں

کیا تم کو اس حال میں بھیمیں دنیا کا لگتا ہوں

کب کا روگی ہوں ویسےشہر مسیحا لگتا ہوں

میرا تالو تر کر دوسچ مچ پیاسا لگتا ہوں

مجھ سے کما لو کچھ پیسےزندہ مردہ لگتا ہوں

میں نے سہے ہیں مکر اپنےاب بیچارہ لگتا ہوں

— جون ایلیا