11 اشعار

اپنے سب یار کام کر رہے ہیں

Apne sab yaar kaam kar rahe hain

اپنے سب یار کام کر رہے ہیں

«اپنے سب یار کام کر رہے ہیں» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

اپنے سب یار کام کر رہے ہیںاور ہم ہیں کہ نام کر رہے ہیں

تیغ بازی کا شوق اپنی جگہآپ تو قتل عام کر رہے ہیں

داد و تحسین کا یہ شور ہے کیوںہم تو خود سے کلام کر رہے ہیں

ہم ہیں مصروف انتظام مگرجانے کیا انتظام کر رہے ہیں

ہے وہ بے چارگی کا حال کہ ہمہر کسی کو سلام کر رہے ہیں

ایک قتالہ چاہیے ہم کوہم یہ اعلان عام کر رہے ہیں

کیا بھلا ساغر سفال کہ ہمناف پیالے کو جام کر رہے ہیں

ہم تو آئے تھے عرض مطلب کواور وہ احترام کر رہے ہیں

نہ اٹھے آہ کا دھواں بھی کہ وہکوئے دل میں خرام کر رہے ہیں

اس کے ہونٹوں پہ رکھ کے ہونٹ اپنےبات ہی ہم تمام کر رہے ہیں

ہم عجب ہیں کہ اس کے کوچے میںبے سبب دھوم دھام کر رہے ہیں

— جون ایلیا