13 اشعار

بڑا احسان ہم فرما رہے ہیں

Bada ehsan hum farma rahe hain

بڑا احسان ہم فرما رہے ہیں

«بڑا احسان ہم فرما رہے ہیں» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 33 سیکنڈ ہے۔

بڑا احسان ہم فرما رہے ہیںکہ ان کے خط انہیں لوٹا رہے ہیں

نہیں ترک محبت پر وہ راضیقیامت ہے کہ ہم سمجھا رہے ہیں

یقیں کا راستہ طے کرنے والےبہت تیزی سے واپس آ رہے ہیں

یہ مت بھولو کہ یہ لمحات ہم کوبچھڑنے کے لیے ملوا رہے ہیں

تعجب ہے کہ عشق و عاشقی سےابھی کچھ لوگ دھوکا کھا رہے ہیں

تمہیں چاہیں گے جب چھن جاؤ گی تمابھی ہم تم کو ارزاں پا رہے ہیں

کسی صورت انہیں نفرت ہو ہم سےہم اپنے عیب خود گنوا رہے ہیں

وہ پاگل مست ہے اپنی وفا میںمری آنکھوں میں آنسو آ رہے ہیں

دلیلوں سے اسے قائل کیا تھادلیلیں دے کے اب پچھتا رہے ہیں

تری بانہوں سے ہجرت کرنے والےنئے ماحول میں گھبرا رہے ہیں

یہ جذب عشق ہے یا جذبۂ رحمترے آنسو مجھے رلوا رہے ہیں

عجب کچھ ربط ہے تم سے کہ تم کوہم اپنا جان کر ٹھکرا رہے ہیں

وفا کی یادگاریں تک نہ ہوں گیمری جاں بس کوئی دن جا رہے ہیں

— جون ایلیا