10 اشعار

بے قراری سی بے قراری ہے

Be-qarari si be-qarari hai

بے قراری سی بے قراری ہے

«بے قراری سی بے قراری ہے» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

بے قراری سی بے قراری ہےوصل ہے اور فراق طاری ہے

جو گزاری نہ جا سکی ہم سےہم نے وہ زندگی گزاری ہے

نگھرے کیا ہوئے کہ لوگوں پراپنا سایہ بھی اب تو بھاری ہے

بن تمہارے کبھی نہیں آئیکیا مری نیند بھی تمہاری ہے

آپ میں کیسے آؤں میں تجھ بنسانس جو چل رہی ہے آری ہے

اس سے کہیو کہ دل کی گلیوں میںرات دن تیری انتظاری ہے

ہجر ہو یا وصال ہو کچھ ہوہم ہیں اور اس کی یادگاری ہے

اک مہک سمت دل سے آئی تھیمیں یہ سمجھا تری سواری ہے

حادثوں کا حساب ہے اپناورنہ ہر آن سب کی باری ہے

خوش رہے تو کہ زندگی اپنیعمر بھر کی امیدواری ہے

— جون ایلیا