10 اشعار

ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے

Ek hi mujda subah laati hai

ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے

«ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہےدھوپ آنگن میں پھیل جاتی ہے

رنگ موسم ہے اور باد صباشہر کوچوں میں خاک اڑاتی ہے

فرش پر کاغذ اڑتے پھرتے ہیںمیز پر گرد جمتی جاتی ہے

سوچتا ہوں کہ اس کی یاد آخراب کسے رات بھر جگاتی ہے

میں بھی اذن نوا گری چاہوںبے دلی بھی تو لب ہلاتی ہے

سو گئے پیڑ جاگ اٹھی خوشبوزندگی خواب کیوں دکھاتی ہے

اس سراپا وفا کی فرقت میںخواہش غیر کیوں ستاتی ہے

آپ اپنے سے ہم سخن رہناہم نشیں سانس پھول جاتی ہے

کیا ستم ہے کہ اب تری صورتغور کرنے پہ یاد آتی ہے

کون اس گھر کی دیکھ بھال کرےروز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے

— جون ایلیا