10 اشعار

گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا

Gaahe gaahe bas ab yehi ho kya

گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا

«گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیاتم سے مل کر بہت خوشی ہو کیا

مل رہی ہو بڑے تپاک کے ساتھمجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا

یاد ہیں اب بھی اپنے خواب تمہیںمجھ سے مل کر اداس بھی ہو کیا

بس مجھے یوں ہی اک خیال آیاسوچتی ہو تو سوچتی ہو کیا

اب مری کوئی زندگی ہی نہیںاب بھی تم میری زندگی ہو کیا

کیا کہا عشق جاودانی ہےآخری بار مل رہی ہو کیا

ہاں فضا یاں کی سوئی سوئی سی ہےتو بہت تیز روشنی ہو کیا

میرے سب طنز بے اثر ہی رہےتم بہت دور جا چکی ہو کیا

دل میں اب سوز انتظار نہیںشمع امید بجھ گئی ہو کیا

اس سمندر پہ تشنہ کام ہوں میںبان تم اب بھی بہہ رہی ہو کیا

— جون ایلیا