6 اشعار

جو ہوا جونؔ وہ ہوا بھی نہیں

Jo hua Jaun woh hua bhi nahin

جو ہوا جونؔ وہ ہوا بھی نہیں

«جو ہوا جونؔ وہ ہوا بھی نہیں» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

جو ہوا جونؔ وہ ہوا بھی نہیںیعنی جو کچھ بھی تھا وہ تھا بھی نہیں

بس گیا جب وہ شہر دل میں مرےپھر میں اس شہر میں رہا بھی نہیں

اک عجب طور حال ہے کہ جو ہےیعنی میں بھی نہیں خدا بھی نہیں

لمحوں سے اب معاملہ کیا ہودل پہ اب کچھ گزر رہا بھی نہیں

جانیے میں چلا گیا ہوں کہاںمیں تو خود سے کہیں گیا بھی نہیں

تو مرے دل میں آن کے بس جااور تو میرے پاس آ بھی نہیں

— جون ایلیا