9 اشعار

کام کی بات میں نے کی ہی نہیں

Kām ki baat main ne ki hi nahin

کام کی بات میں نے کی ہی نہیں

«کام کی بات میں نے کی ہی نہیں» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

کام کی بات میں نے کی ہی نہیںیہ مرا طور زندگی ہی نہیں

اے امید اے امید نو میداںمجھ سے میت تری اٹھی ہی نہیں

میں جو تھا اس گلی کا مست خراماس گلی میں مری چلی ہی نہیں

یہ سنا ہے کہ میرے کوچ کے بعداس کی خوشبو کہیں بسی ہی نہیں

تھی جو اک فاختہ اداس اداسصبح وہ شاخ سے اڑی ہی نہیں

مجھ میں اب میرا جی نہیں لگتااور ستم یہ کہ میرا جی ہی نہیں

وہ جو رہتی تھی دل محلے میںپھر وہ لڑکی مجھے ملی ہی نہیں

جائیے اور خاک اڑائیے آپاب وہ گھر کیا کہ وہ گلی ہی نہیں

ہائے وہ شوق جو نہیں تھا کبھیہائے وہ زندگی جو تھی ہی نہیں

— جون ایلیا