9 اشعار

خوب ہے شوق کا یہ پہلو بھی

Khoob hai shauq ka yeh pehlū bhi

خوب ہے شوق کا یہ پہلو بھی

«خوب ہے شوق کا یہ پہلو بھی» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

خوب ہے شوق کا یہ پہلو بھیمیں بھی برباد ہو گیا تو بھی

حسن مغموم تمکنت میں تریفرق آیا نہ یک سر مو بھی

یہ نہ سوچا تھا زیر سایۂ زلفکہ بچھڑ جائے گی یہ خوش بو بھی

حسن کہتا تھا چھیڑنے والےچھیڑنا ہی تو بس نہیں چھو بھی

ہائے وہ اس کا موج خیز بدنمیں تو پیاسا رہا لب جو بھی

یاد آتے ہیں معجزے اپنےاور اس کے بدن کا جادو بھی

یاسمیں اس کی خاص محرم رازیاد آیا کرے گی اب تو بھی

یاد سے اس کی ہے مرا پرہیزاے صبا اب نہ آئیو تو بھی

ہیں یہی جونؔ ایلیا جو کبھیسخت مغرور بھی تھے بد خو بھی

— جون ایلیا