15 اشعار

کس سے اظہار مدعا کیجے

Kis se izhār-e-mudda'a keeje

کس سے اظہار مدعا کیجے

«کس سے اظہار مدعا کیجے» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

کس سے اظہار مدعا کیجےآپ ملتے نہیں ہیں کیا کیجے

ہو نہ پایا یہ فیصلہ اب تکآپ کیجے تو کیا کیا کیجے

آپ تھے جس کے چارہ گر وہ جواںسخت بیمار ہے دعا کیجے

ایک ہی فن تو ہم نے سیکھا ہےجس سے ملیے اسے خفا کیجے

ہے تقاضا مری طبیعت کاہر کسی کو چراغ پا کیجے

ہے تو بارے یہ عالم اسباببے سبب چیخنے لگا کیجے

آج ہم کیا گلہ کریں اس سےگلۂ تنگیٔ قبا کیجے

نطق حیوان پر گراں ہے ابھیگفتگو کم سے کم کیا کیجے

حضرت زلف غالیہ افشاںنام اپنا صبا صبا کیجے

زندگی کا عجب معاملہ ہےایک لمحے میں فیصلہ کیجے

مجھ کو عادت ہے روٹھ جانے کیآپ مجھ کو منا لیا کیجے

ملتے رہیے اسی تپاک کے ساتھبے وفائی کی انتہا کیجے

کوہ کن کو ہے خودکشی خواہششاہ بانو سے التجا کیجے

مجھ سے کہتی تھیں وہ شراب آنکھیںآپ وہ زہر مت پیا کیجے

رنگ ہر رنگ میں ہے داد طلبخون تھوکوں تو واہ وا کیجے

— جون ایلیا