6 اشعار

کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے

Kitne aish se rehte honge kitne itraate honge

کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے

«کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گےجانے کیسے لوگ وہ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے

شام ہوئے خوش باش یہاں کے میرے پاس آ جاتے ہیںمیرے بجھنے کا نظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے

وہ جو نہ آنے والا ہے نا اس سے مجھ کو مطلب تھاآنے والوں سے کیا مطلب آتے ہیں آتے ہوں گے

اس کی یاد کی باد صبا میں اور تو کیا ہوتا ہوگایوں ہی میرے بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے

یارو کچھ تو ذکر کرو تم اس کی قیامت بانہوں کاوہ جو سمٹتے ہوں گے ان میں وہ تو مر جاتے ہوں گے

میرا سانس اکھڑتے ہی سب بین کریں گے روئیں گےیعنی میرے بعد بھی یعنی سانس لیے جاتے ہوں گے

— جون ایلیا