12 اشعار

سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں

Sar hi ab phoRiye nadāmat mein

سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں

«سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

سر ہی اب پھوڑیے ندامت میںنیند آنے لگی ہے فرقت میں

ہیں دلیلیں ترے خلاف مگرسوچتا ہوں تری حمایت میں

روح نے عشق کا فریب دیاجسم کو جسم کی عداوت میں

اب فقط عادتوں کی ورزش ہےروح شامل نہیں شکایت میں

عشق کو درمیاں نہ لاؤ کہ میںچیختا ہوں بدن کی عسرت میں

یہ کچھ آسان تو نہیں ہے کہ ہمروٹھتے اب بھی ہیں مروت میں

وہ جو تعمیر ہونے والی تھیلگ گئی آگ اس عمارت میں

زندگی کس طرح بسر ہوگیدل نہیں لگ رہا محبت میں

حاصل کن ہے یہ جہان خرابیہی ممکن تھا اتنی عجلت میں

پھر بنایا خدا نے آدم کواپنی صورت پہ ایسی صورت میں

اور پھر آدمی نے غور کیاچھپکلی کی لطیف صنعت میں

اے خدا جو کہیں نہیں موجودکیا لکھا ہے ہماری قسمت میں

— جون ایلیا