10 اشعار

شرمندگی ہے ہم کو بہت ہم ملے تمہیں

Sharmindagi hai hum ko bahut hum mile tumhein

شرمندگی ہے ہم کو بہت ہم ملے تمہیں

«شرمندگی ہے ہم کو بہت ہم ملے تمہیں» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

شرمندگی ہے ہم کو بہت ہم ملے تمہیںتم سر بہ سر خوشی تھے مگر غم ملے تمہیں

میں اپنے آپ میں نہ ملا اس کا غم نہیںغم تو یہ ہے کہ تم بھی بہت کم ملے تمہیں

ہے جو ہمارا ایک حساب اس حساب سےآتی ہے ہم کو شرم کہ پیہم ملے تمہیں

تم کو جہان شوق و تمنا میں کیا ملاہم بھی ملے تو درہم و برہم ملے تمہیں

اب اپنے طور ہی میں نہیں تم سو کاش کہخود میں خود اپنا طور کوئی دم ملے تمہیں

اس شہر حیلہ جو میں جو محرم ملے مجھےفریاد جان جاں وہی محرم ملے تمہیں

دیتا ہوں تم کو خشکئ مژگاں کی میں دعامطلب یہ ہے کہ دامن پر نم ملے تمہیں

میں ان میں آج تک کبھی پایا نہیں گیاجاناں جو میرے شوق کے عالم ملے تمہیں

تم نے ہمارے دل میں بہت دن سفر کیاشرمندہ ہیں کہ اس میں بہت خم ملے تمہیں

یوں ہو کہ اور ہی کوئی حوا ملے مجھےہو یوں کہ اور ہی کوئی آدم ملے تمہیں

— جون ایلیا