8 اشعار

سینہ دہک رہا ہو تو کیا چپ رہے کوئی

Seena dehak raha ho toh kya chup rahe koi

سینہ دہک رہا ہو تو کیا چپ رہے کوئی

«سینہ دہک رہا ہو تو کیا چپ رہے کوئی» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

سینہ دہک رہا ہو تو کیا چپ رہے کوئیکیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئی

ثابت ہوا سکون دل و جاں کہیں نہیںرشتوں میں ڈھونڈھتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی

ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیںیہ تو وہ راستہ ہے کہ بس چل پڑے کوئی

دیوار جانتا تھا جسے میں وہ دھول تھیاب مجھ کو اعتماد کی دعوت نہ دے کوئی

میں خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خرابمیرے خلاف زہر اگلتا پھرے کوئی

اے شخص اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہےیہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی

ہاں ٹھیک ہے میں اپنی انا کا مریض ہوںآخر مرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی

اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکرکاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی

— جون ایلیا