10 اشعار

تو بھی چپ ہے میں بھی چپ ہوں یہ کیسی تنہائی ہے

Tu bhi chup hai main bhi chup hoon yeh kaisi tanhāi hai

تو بھی چپ ہے میں بھی چپ ہوں یہ کیسی تنہائی ہے

«تو بھی چپ ہے میں بھی چپ ہوں یہ کیسی تنہائی ہے» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 50 سیکنڈ ہے۔

تو بھی چپ ہے میں بھی چپ ہوں یہ کیسی تنہائی ہےتیرے ساتھ تری یاد آئی کیا تو سچ مچ آئی ہے

شاید وہ دن پہلا دن تھا پلکیں بوجھل ہونے کامجھ کو دیکھتے ہی جب اس کی انگڑائی شرمائی ہے

اس دن پہلی بار ہوا تھا مجھ کو رفاقت کا احساسجب اس کے ملبوس کی خوشبو گھر پہنچانے آئی ہے

حسن سے عرض شوق نہ کرنا حسن کو زک پہنچانا ہےہم نے عرض شوق نہ کر کے حسن کو زک پہنچائی ہے

ہم کو اور تو کچھ نہیں سوجھا البتہ اس کے دل میںسوز رقابت پیدا کر کے اس کی نیند اڑائی ہے

ہم دونوں مل کر بھی دلوں کی تنہائی میں بھٹکیں گےپاگل کچھ تو سوچ یہ تو نے کیسی شکل بنائی ہے

عشق پیچاں کی صندل پر جانے کس دن بیل چڑھےکیاری میں پانی ٹھہرا ہے دیواروں پر کائی ہے

حسن کے جانے کتنے چہرے حسن کے جانے کتنے نامعشق کا پیشہ حسن پرستی عشق بڑا ہرجائی ہے

آج بہت دن بعد میں اپنے کمرے تک آ نکلا تھاجوں ہی دروازہ کھولا ہے اس کی خوشبو آئی ہے

ایک تو اتنا حبس ہے پھر میں سانسیں روکے بیٹھا ہوںویرانی نے جھاڑو دے کے گھر میں دھول اڑائی ہے

— جون ایلیا