28 اشعار

آنسو

Aansoo

آنسو

«آنسو» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

کسی کا غم سن کےمیری پلکوں پہ

ایک آنسو جو آ گیا ہےیہ آنسو کیا ہے

یہ آنسو کیا اک گواہ ہےمیری درد مندی کا میری انسان دوستی کا

یہ آنسو کیا اک ثبوت ہےمیری زندگی میں خلوص کی ایک روشنی کا

یہ آنسو کیا یہ بتا رہا ہےکہ میرے سینے میں ایک حساس دل ہے

جس نے کسی کی دل دوز داستاں جو سنیتو سن کے تڑپ اٹھا ہے

پرائے شعلوں میں جل رہا ہےپگھل رہا ہے

مگر میں پھر خود سے پوچھتا ہوںیہ داستاں تو ابھی سنی ہے

یہ آنسو بھی کیا ابھی ڈھلا ہےیہ آنسو

کیا میں یہ سمجھوںپہلے کہیں نہیں تھا

مجھے تو شک ہے کہ یہ کہیں تھایہ میرے دل اور میری پلکوں کے درمیاں

اک جو فاصلہ ہےجہاں خیالوں کے شہر زندہ ہیں

اور خوابوں کی تربتیں ہیںجہاں محبت کے اجڑے باغوں میں

تلخیوں کے ببول ہیںاور کچھ نہیں ہے

جہاں سے آگے ہیںالجھنوں کے گھنیرے جنگل

یہ آنسوشاید بہت دنوں سے

وہیں چھپا تھاجنہوں نے اس کو جنم دیا تھا

وہ رنج تو مصلحت کے ہاتھوںنہ جانے کب قتل ہو گئے تھے

تو کرتا پھر کس پہ ناز آنسوکہ ہو گیا بے جواز آنسو

یتیم آنسو یسیر آنسونہ معتبر تھا

نہ راستوں سے ہی با خبر تھاتو چلتے چلتے

وہ تھم گیا تھاٹھٹھک گیا تھا

جھجھک گیا تھاادھر سے آج اک کسی کے غم کی

کہانی کا کارواں جو گزرایتیم آنسو نے جیسے جانا

کہ اس کہانی کی سر پرستی ملےتو ممکن ہے

راہ پاناتو اک کہانی کی انگلی تھامے

اسی کے غم کو رومال کرتااسی کے بارے میں

جھوٹے سچے سوال کرتایہ میری پلکوں تک آ گیا ہے

— جاوید اختر