24 اشعار

عجیب آدمی تھا وہ

Ajeeb Aadmi Tha Woh

عجیب آدمی تھا وہ

«عجیب آدمی تھا وہ» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے طارق نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر» میں 13 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

عجیب آدمی تھا وہمحبتوں کا گیت تھا

بغاوتوں کا راگ تھاکبھی وہ صرف پھول تھا

کبھی وہ صرف آگ تھاعجیب آدمی تھا وہ

وہ مفلسوں سے کہتا تھاکہ دن بدل بھی سکتے ہیں

وہ جابروں سے کہتا تھاتمہارے سر پہ سونے کے جو تاج ہیں

کبھی پگھل بھی سکتے ہیںوہ بندشوں سے کہتا تھا

میں تم کو توڑ سکتا ہوںسہولتوں سے کہتا تھا

میں تم کو چھوڑ سکتا ہوںہواؤں سے وہ کہتا تھا

میں تم کو موڑ سکتا ہوںوہ خواب سے یہ کہتا تھا

کہ تجھ کو سچ کروں گا میںوہ آرزوؤں سے کہتا تھا

میں تیرا ہم سفر ہوںتیرے ساتھ ہی چلوں گا میں

تو چاہے جتنی دور بھی بنا لے اپنی منزلیںکبھی نہیں تھکوں گا میں

وہ زندگی سے کہتا تھاکہ تجھ کو میں سجاؤں گا

تو مجھ سے چاند مانگ لےمیں چاند لے کے آؤں گا

وہ آدمی سے کہتا تھاکہ آدمی سے پیار کر

اجڑ رہی ہے یہ زمیںکچھ اس کا اب سنگھار کر

عجیب آدمی تھا وہوہ زندگی کے سارے غم

تمام دکھہر اک ستم سے کہتا تھا

میں تم سے جیت جاؤں گاکہ تم کو تو مٹا ہی دے گا

ایک روز آدمیبھلا ہی دے گا یہ جہاں

مری الگ ہے داستاںوہ آنکھیں جن میں خواب ہیں

وہ دل ہے جن میں آرزووہ بازو جن میں ہے سکت

وہ ہونٹ جن پہ لفظ ہیںرہوں گا ان کے درمیاں

کہ جب میں بیت جاؤں گاعجیب آدمی تھا وہ

— جاوید اختر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں