60 اشعار

آرزو کے مسافر

Aarzoo ke Musafir

آرزو کے مسافر

«آرزو کے مسافر» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 4 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

جانے کس کی تلاش ان کی آنکھوں میں تھیآرزو کے مسافر

بھٹکتے رہےجتنا بھی وہ چلے

اتنے ہی بچھ گئےراہ میں فاصلے

خواب منزل تھےاور منزلیں خواب تھیں

راستوں سے نکلتے رہے راستےجانے کس واسطے

آرزو کے مسافر بھٹکتے رہےجن پہ سب چلتے ہیں

ایسے سب راستے چھوڑ کےایک انجان پگڈنڈی کی انگلی تھامے ہوئے

اک ستارے سےامید باندھے ہوئے سمت کی

ہر گماں کو یقیں مان کےاپنے دل سے

کوئی دھوکا کھاتے ہوئے جان کےصحرا صحرا

سمندر کو وہ ڈھونڈتےکچھ سرابوں کی جانب

رہے گامزنیوں نہیں تھا

کہ ان کو خبر ہی نہ تھییہ سمندر نہیں

لیکن ان کو کہیںشاید احساس تھا

یہ فریبان کو محو سفر رکھے گا

یہ سبب تھاکہ تھا اور کوئی سبب

جو لئے ان کو پھرتا رہامنزلوں منزلوں

راستے راستےجانے کس واسطے

آرزو کے مسافر بھٹکتے رہےاکثر ایسا ہوا

شہر در شہراور بستی بستی

کسی بھی دریچے میںکوئی چراغ محبت نہ تھا

بے رخی سے بھریساری گلیوں میں

سارے مکانوں کےدروازے یوں بند تھے

جیسے اک سردخاموش لہجے میں

وہ کہہ رہے ہوںمروت کا اور مہربانی کا مسکن

کہیں اور ہوگایہاں تو نہیں ہے

یہی ایک منظر سمیٹے تھےشہروں کے پتھریلے سب راستے

جانے کس واسطےآرزو کے مسافر بھٹکتے رہے

اور کبھی یوں ہواآرزو کے مسافر تھے

جلتی سلگتی ہوئی دھوپ میںکچھ درختوں نے سائے بچھائے مگر

ان کو ایسا لگاسائے میں جو سکون

اور آرام ہےمنزلوں تک پہنچنے نہ دے گا انہیں

اور یوں بھی ہوامہکی کلیوں نے خوشبو کے پیغام بھیجے انہیں

ان کو ایسا لگاچند کلیوں پہ کیسے قناعت کریں

ان کو تو ڈھونڈھنا ہےوہ گلشن کہ جس کو

کسی نے ابھی تک ہے دیکھا نہیںجانے کیوں تھا انہیں اس کا پورا یقیں

دیر ہو یا سویر ان کو لیکن کہیںایسے گلشن کے مل جائیں گے راستے

جانے کس واسطےآرزو کے مسافر بھٹکتے رہے

دھوپ ڈھلنے لگیبس ذرا دیر میں رات ہو جائے گی

آرزو کے مسافر جو ہیںان کے قدموں تلے

جو بھی اک راہ ہےوہ بھی شاید اندھیرے میں کھو جائے گی

آرزو کے مسافر بھیاپنے تھکے ہارے بے جان پیروں پہ

کچھ دیر تک لڑکھڑائیں گےاور گر کے سو جائیں گے

صرف سناٹا سوچے گا یہ رات بھرمنزلیں تو انہیں جانے کتنی ملیں

یہ مگرمنزلوں کو سمجھتے رہے جانے کیوں راستے

جانے کس واسطےآرزو کے مسافر بھٹکتے رہے

اور پھر اک سویرے کی اجلی کرنتیرگی چیر کے

جگمگا دے گیجب ان گنت رہ گزاروں پہ بکھرے ہوئے

ان کے نقش قدمعافیت گاہوں میں رہنے والے

یہ حیرت سے مجبور ہو کے کہیں گےیہ نقش قدم صرف نقش قدم ہی نہیں

یہ تو دریافت ہیںیہ تو ایجاد ہیں

یہ تو افکار ہیںیہ تو اشعار ہیں

یہ کوئی رقص ہیںیہ کوئی راگ ہیں

ان سے ہی تو ہیں آراستہساری تہذیب و تاریخ کے

وقت کےزندگی کے سبھی راستے

وہ مسافر مگرجانتے بوجھتے بھی رہے بے خبر

جس کو چھو لیں قدموہ تو بس راہ تھی

ان کی منزل دگر تھیالگ چاہ تھی

جو نہیں مل سکے اس کی تھی آرزوجو نہیں ہے کہیں اس کی تھی جستجو

شاید اس واسطےآرزو کے مسافر بھٹکتے رہے

— جاوید اختر