23 اشعار

میلے

Mele

میلے

«میلے» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 44 سیکنڈ ہے۔

باپ کی انگلی تھامےاک ننھا سا بچہ

پہلے پہل میلے میں گیا تواپنی بھولی بھالی

کنچوں جیسی آنکھوں سےاک دنیا دیکھی

یہ کیا ہے اور وہ کیا ہےسب اس نے پوچھا

باپ نے جھک کرکتنی ساری چیزوں اور کھیلوں کا

اس کو نام بتایانٹ کا

بازی گر کاجادوگر کا

اس کو کام بتایاپھر وہ گھر کی جانب لوٹے

گود کے جھولے میںبچے نے باپ کے کندھے پر سر رکھا

باپ نے پوچھانیند آتی ہے

وقت بھی ایک پرندہ ہےاڑتا رہتا ہے

گاؤں میں پھر اک میلہ آیابوڑھے باپ نے کانپتے ہاتھوں سے

بیٹے کی بانہہ کو تھامااور بیٹے نے

یہ کیا ہے اور وہ کیا ہےجتنا بھی بن پایا

سمجھایاباپ نے بیٹے کے کندھے پر سر رکھا

بیٹے نے پوچھانیند آتی ہے

باپ نے مڑ کےیاد کی پگڈنڈی پر چلتے

بیتے ہوئےسب اچھے برے

اور کڑوے میٹھےلمحوں کے پیروں سے اڑتی

دھول کو دیکھاپھر

اپنے بیٹے کو دیکھاہونٹوں پر

اک ہلکی سی مسکان آئیہولے سے بولا

ہاں!مجھ کو اب نیند آتی ہے

— جاوید اختر