12 اشعار

بیمار کی رات

Beemaar Ki Raat

بیمار کی رات

«بیمار کی رات» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

درد بے رحم ہےجلاد ہے درد

درد کچھ کہتا نہیںسنتا نہیں

درد بس ہوتا ہےدرد کا مارا ہوا

روندا ہواجسم تو اب ہار گیا

روح ضدی ہےلڑے جاتی ہے

ہانپتیکانپتی

گھبرائی ہوئیدرد کے زور سے

تھرائی ہوئیجسم سے لپٹی ہے

کہتی ہےنہیں چھوڑوں گی

موتچوکھٹ پہ کھڑی ہے کب سے

صبر سے دیکھ رہی ہے اس کوآج کی رات

نہ جانے کیا ہو

— جاوید اختر