7 اشعار

ابھی ضمیر میں تھوڑی سی جان باقی ہے

Abhi zameer mein thodi si jaan baqi hai

ابھی ضمیر میں تھوڑی سی جان باقی ہے

«ابھی ضمیر میں تھوڑی سی جان باقی ہے» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

ابھی ضمیر میں تھوڑی سی جان باقی ہےابھی ہمارا کوئی امتحان باقی ہے

ہمارے گھر کو تو اجڑے ہوئے زمانہ ہوامگر سنا ہے ابھی وہ مکان باقی ہے

ہماری ان سے جو تھی گفتگو وہ ختم ہوئیمگر سکوت سا کچھ درمیان باقی ہے

ہمارے ذہن کی بستی میں آگ ایسی لگیکہ جو تھا خاک ہوا اک دکان باقی ہے

وہ زخم بھر گیا عرصہ ہوا مگر اب تکذرا سا درد ذرا سا نشان باقی ہے

ذرا سی بات جو پھیلی تو داستان بنیوہ بات ختم ہوئی داستان باقی ہے

اب آیا تیر چلانے کا فن تو کیا آیاہمارے ہاتھ میں خالی کمان باقی ہے

— جاوید اختر