6 اشعار

بظاہر کیا ہے جو حاصل نہیں ہے

Bazahir kya hai jo hasil nahin hai

بظاہر کیا ہے جو حاصل نہیں ہے

«بظاہر کیا ہے جو حاصل نہیں ہے» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

بظاہر کیا ہے جو حاصل نہیں ہےمگر یہ تو مری منزل نہیں ہے

یہ تودہ ریت کا ہے بیچ دریایہ بہہ جائے گا یہ ساحل نہیں ہے

بہت آسان ہے پہچان اس کیاگر دکھتا نہیں تو دل نہیں ہے

مسافر وہ عجب ہے کارواں میںکہ جو ہم راہ ہے شامل نہیں ہے

بس اک مقتول ہی مقتول کب ہےبس اک قاتل ہی تو قاتل نہیں ہے

کبھی تو رات کو تم رات کہہ دویہ کام اتنا بھی اب مشکل نہیں ہے

— جاوید اختر