33 اشعار

وہ کمرہ یاد آتا ہے

Woh Kamra Yaad Aata Hai

وہ کمرہ یاد آتا ہے

«وہ کمرہ یاد آتا ہے» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 28 سیکنڈ ہے۔

میں جب بھیزندگی کی چلچلاتی دھوپ میں تپ کر

میں جب بھیدوسروں کے اور اپنے جھوٹ سے تھک کر

میں سب سے لڑ کے خود سے ہار کےجب بھی اس ایک کمرے میں جاتا تھا

وہ ہلکے اور گہرے کتھئی رنگوں کا اک کمرہوہ بے حد مہرباں کمرہ

جو اپنی نرم مٹھی میں مجھے ایسے چھپا لیتا تھاجیسے کوئی ماں

بچے کو آنچل میں چھپا لےپیار سے ڈانٹے

یہ کیا عادت ہےجلتی دوپہر میں مارے مارے گھومتے ہو تم

وہ کمرہ یاد آتا ہےدبیز اور خاصا بھاری

کچھ ذرا مشکل سے کھلنے والا وہ شیشم کا دروازہکہ جیسے کوئی اکھڑ باپ

اپنے کھردرے سینے میںشفقت کے سمندر کو چھپائے ہو

وہ کرسیاور اس کے ساتھ وہ جڑواں بہن اس کی

وہ دونوںدوست تھیں میری

وہ اک گستاخ منہ پھٹ آئینہجو دل کا اچھا تھا

وہ بے ہنگم سی الماریجو کونے میں کھڑی

اک بوڑھی انا کی طرحآئینے کو تنبیہ کرتی تھی

وہ اک گلدانننھا سا

بہت شیطانان دنوں پہ ہنستا تھا

دریچہیا ذہانت سے بھری اک مسکراہٹ

اور دریچے پر جھکی وہ بیلکوئی سبز سرگوشی

کتابیںطاق میں اور شیلف پر

سنجیدہ استانی بنی بیٹھیںمگر سب منتظر اس بات کی

میں ان سے کچھ پوچھوںسرہانے

نیند کا ساتھیتھکن کا چارہ گر

وہ نرم دل تکیہمیں جس کی گود میں سر رکھ کے

چھت کو دیکھتا تھاچھت کی کڑیوں میں

نہ جانے کتنے افسانوں کی کڑیاں تھیںوہ چھوٹی میز پر

اور سامنے دیوار پرآویزاں تصویریں

مجھے اپنائیت سے اور یقیں سے دیکھتی تھیںمسکراتی تھیں

انہیں شک بھی نہیں تھاایک دن

میں ان کو ایسے چھوڑ جاؤں گامیں اک دن یوں بھی جاؤں گا

کہ پھر واپس نہ آؤں گامیں اب جس گھر میں رہتا ہوں

بہت ہی خوبصورت ہےمگر اکثر یہاں خاموش بیٹھا یاد کرتا ہوں

وہ کمرہ بات کرتا تھا

— جاوید اختر