25 اشعار

عجیب قصہ ہے

Ajeeb Qissa Hai

عجیب قصہ ہے

«عجیب قصہ ہے» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

عجیب قصہ ہےجب یہ دنیا سمجھ رہی تھی

تم اپنی دنیا میں جی رہی ہومیں اپنی دنیا میں جی رہا ہوں

تو ہم نے ساری نگاہوں سے دورایک دنیا بسائی تھی

جو کہ میری بھی تھیتمہاری بھی تھی

جہاں فضاؤں میںدونوں کے خواب جاگتے تھے

جہاں ہواؤں میںدونوں کی سرگوشیاں گھلی تھیں

جہاں کے پھولوں میںدونوں کی آرزو کے سب رنگ

کھل رہے تھےجہاں پہ دونوں کی جرأتوں کے

ہزار چشمے ابل رہے تھےنہ وسوسے تھے نہ رنج و غم تھے

سکون کا گہرا اک سمندر تھااور ہم تھے

عجیب قصہ ہےساری دنیا نے

جب یہ جاناکہ ہم نے ساری نگاہوں سے دور

ایک دنیا بسائی ہے توہر ایک ابرو نے جیسے ہم پر کمان تانی

تمام پیشانیوں پہ ابھریںغم اور غصے کی گہری شکنیں

کسی کے لہجے سے تلخی چھلکیکسی کی باتوں میں ترشی آئی

کسی نے چاہاکہ کوئی دیوار ہی اٹھا دے

کسی نے چاہاہماری دنیا ہی وہ مٹا دے

مگر زمانے کو ہارنا تھازمانہ ہارا

یہ ساری دنیا کو ماننا ہی پڑاہمارے خیال کی ایک سی زمیں ہے

ہمارے خوابوں کا ایک جیسا ہی آسماں ہےمگر پرانی یہ داستاں ہے

کہ ہم پہ دنیااب ایک عرصے سے مہرباں ہے

عجیب قصہ ہےجب کہ دنیا نے

کب کا تسلیم کر لیا ہےہم ایک دنیا کے رہنے والے ہیں

سچ تو یہ ہےتم اپنی دنیا میں جی رہی ہو

میں اپنی دنیا میں جی رہا ہوں!

— جاوید اختر