14 اشعار

الجھن

Uljhan

الجھن

«الجھن» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

کروڑوں چہرےاور ان کے پیچھے

کروڑوں چہرےیہ راستے ہیں کہ بھڑ کے چھتے

زمین جسموں سے ڈھک گئی ہےقدم تو کیا تل بھی دھرنے کی اب جگہ نہیں ہے

یہ دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوںکہ اب جہاں ہوں

وہیں سمٹ کے کھڑا رہوں میںمگر کروں کیا

کہ جانتا ہوںکہ رک گیا تو

جو بھیڑ پیچھے سے آ رہی ہےوہ مجھ کو پیروں تلے کچل دے گی پیس دے گی

تو اب جو چلتا ہوں میںتو خود میرے اپنے پیروں میں آ رہا ہے

کسی کا سینہکسی کا بازو

کسی کا چہرہچلوں

تو اوروں پہ ظلم ڈھاؤںرکوں

تو اوروں کے ظلم جھیلوںضمیر

تجھ کو تو ناز ہے اپنی منصفی پرذرا سنوں تو

کہ آج کیا تیرا فیصلہ ہے

— جاوید اختر