18 اشعار

ایک مہرے کا سفر

Ek Mohre Ka Safar

ایک مہرے کا سفر

«ایک مہرے کا سفر» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

جب وہ کم عمر ہی تھااس نے یہ جان لیا تھا کہ اگر جینا ہے

بڑی چالاکی سے جینا ہوگاآنکھ کی آخری حد تک ہے بساط ہستی

اور وہ معمولی سا اک مہرہ ہےایک اک خانہ بہت سوچ کے چلنا ہوگا

بازی آسان نہیں تھی اس کیدور تک چاروں طرف پھیلے تھے

مہرےجلاد

نہایت ہی سفاکسخت بے رحم

بہت ہی چالاکاپنے قبضے میں لیے

پوری بساطاس کے حصے میں فقط مات لیے

وہ جدھر جاتااسے ملتا تھا

ہر نیا خانہ نئی گھات لیےوہ مگر بچتا رہا

چلتا رہاایک گھر

دوسرا گھرتیسرا گھر

پاس آیا کبھی اوروں کےکبھی دور ہوا

وہ مگر بچتا رہاچلتا رہا

گو کہ معمولی سا مہرہ تھا مگر جیت گیایوں وہ اک روز بڑا مہرہ بنا

اب وہ محفوظ ہے اک خانے میںاتنا محفوظ ہے اک خانے میں

اتنا محفوظ کہ دشمن تو الگدوست بھی پاس نہیں آ سکتے

اس کے اک ہاتھ میں ہے جیت اس کیدوسرے ہاتھ میں تنہائی ہے

— جاوید اختر