40 اشعار

بنجارہ

Banjara

بنجارہ

«بنجارہ» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 48 سیکنڈ ہے۔

میں بنجارہوقت کے کتنے شہروں سے گزرا ہوں

لیکنوقت کے اس اک شہر سے جاتے جاتے مڑ کے دیکھ رہا ہوں

سوچ رہا ہوںتم سے میرا یہ ناتا بھی ٹوٹ رہا ہے

تم نے مجھ کو چھوڑا تھا جس شہر میں آ کروقت کا اب وہ شہر بھی مجھ سے چھوٹ رہا ہے

مجھ کو وداع کرنے آئے ہیںاس نگری کے سارے باسی

وہ سارے دنجن کے کندھے پر سوتی ہے

اب بھی تمہاری زلف کی خوشبوسارے لمحے

جن کے ماتھے پر روشناب بھی تمہارے لمس کا ٹیکا

نم آنکھوں سےگم سم مجھ کو دیکھ رہے ہیں

مجھ کو ان کے دکھ کا پتا ہےان کو میرے غم کی خبر ہے

لیکن مجھ کو حکم سفر ہےجانا ہوگا

وقت کے اگلے شہر مجھے اب جانا ہوگاوقت کے اگلے شہر کے سارے باشندے

سب دن سب راتیںجو تم سے ناواقف ہوں گے

وہ کب میری بات سنیں گےمجھ سے کہیں گے

جاؤ اپنی راہ لو راہیہم کو کتنے کام پڑے ہیں

جو بیتی سو بیت گئیاب وہ باتیں کیوں دہراتے ہو

کندھے پر یہ جھولی رکھےکیوں پھرتے ہو کیا پاتے ہو

میں بے چارہاک بنجارہ

آوارہ پھرتے پھرتے جب تھک جاؤں گاتنہائی کے ٹیلے پر جا کر بیٹھوں گا

پھر جیسے پہچان کے مجھ کواک بنجارہ جان کے مجھ کو

وقت کے اگلے شہر کے سارے ننھے منے بھولے لمحےننگے پاؤں

دوڑے دوڑے بھاگے بھاگے آ جائیں گےمجھ کو گھیر کے بیٹھیں گے

اور مجھ سے کہیں گےکیوں بنجارے

تم تو وقت کے کتنے شہروں سے گزرے ہوان شہروں کی کوئی کہانی ہمیں سناؤ

ان سے کہوں گاننھے لمحو!

ایک تھی رانیسن کے کہانی

سارے ننھے لمحےغمگیں ہو کر مجھ سے یہ پوچھیں گے

تم کیوں ان کے شہر نہ آئیںلیکن ان کو بہلا لوں گا

ان سے کہوں گایہ مت پوچھو

آنکھیں موندواور یہ سوچو

تم ہوتیں تو کیسا ہوتاتم یہ کہتیں

تم وہ کہتیںتم اس بات پہ حیراں ہوتیں

تم اس بات پہ کتنی ہنستیںتم ہوتیں تو ایسا ہوتا

تم ہوتیں تو ویسا ہوتادھیرے دھیرے

میرے سارے ننھے لمحےسو جائیں گے

اور میںپھر ہولے سے اٹھ کر

اپنی یادوں کی جھولی کندھے پر رکھ کرپھر چل دوں گا

وقت کے اگلے شہر کی جانبننھے لمحوں کو سمجھانے

بھولے لمحوں کو بہلانےیہی کہانی پھر دہرانے

تم ہوتیں تو ایسا ہوتاتم ہوتیں تو ویسا ہوتا

— جاوید اختر