30 اشعار

یہ کھیل کیا ہے

Yeh khel kya hai

یہ کھیل کیا ہے

«یہ کھیل کیا ہے» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

مرے مخالف نے چال چل دی ہےاور اب

میری چال کے انتظار میں ہےمگر میں کب سے

سفید خانوںسیاہ خانوں میں رکھے

کالے سفید مہروں کو دیکھتا ہوںمیں سوچتا ہوں

یہ مہرے کیا ہیںاگر میں سمجھوں

کے یہ جو مہرے ہیںصرف لکڑی کے ہیں کھلونے

تو جیتنا کیا ہے ہارنا کیانہ یہ ضروری

نہ وہ اہم ہےاگر خوشی ہے نہ جیتنے کی

نہ ہارنے کا ہی کوئی غم ہےتو کھیل کیا ہے

میں سوچتا ہوںجو کھیلنا ہے

تو اپنے دل میں یقین کر لوںیہ مہرے سچ مچ کے بادشاہ و وزیر

سچ مچ کے ہیں پیادےاور ان کے آگے ہے

دشمنوں کی وہ فوجرکھتی ہے جو کہ مجھ کو تباہ کرنے کے

سارے منصوبےسب ارادے

مگر ایسا جو مان بھی لوںتو سوچتا ہوں

یہ کھیل کب ہےیہ جنگ ہے جس کو جیتنا ہے

یہ جنگ ہے جس میں سب ہے جائزکوئی یہ کہتا ہے جیسے مجھ سے

یہ جنگ بھی ہےیہ کھیل بھی ہے

یہ جنگ ہے پر کھلاڑیوں کییہ کھیل ہے جنگ کی طرح کا

میں سوچتا ہوںجو کھیل ہے

اس میں اس طرح کا اصول کیوں ہےکہ کوئی مہرہ رہے کہ جائے

مگر جو ہے بادشاہاس پر کبھی کوئی آنچ بھی نہ آئے

وزیر ہی کو ہے بس اجازتکہ جس طرف بھی وہ چاہے جائے

میں سوچتا ہوںجو کھیل ہے

اس میں اس طرح اصول کیوں ہےپیادہ جو اپنے گھر سے نکلے

پلٹ کے واپس نہ جانے پائےمیں سوچتا ہوں

اگر یہی ہے اصولتو پھر اصول کیا ہے

اگر یہی ہے یہ کھیلتو پھر یہ کھیل کیا ہے

میں ان سوالوں سے جانے کب سے الجھ رہا ہوںمرے مخالف نے چال چل دی ہے

اور اب میری چال کے انتظار میں ہے

— جاوید اختر