11 اشعار

برگد

Bargad

برگد

«برگد» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

میرے رستے میں اک موڑ تھااور اس موڑ پر

پیڑ تھا ایک برگد کااونچا

گھناجس کے سائے میں میرا بہت وقت بیتا ہے

لیکن ہمیشہ یہی میں نے سوچاکہ رستے میں یہ موڑ ہی اس لیے ہے

کہ یہ پیڑ ہےعمر کی آندھیوں میں

وہ پیڑ ایک دن گر گیا ہےموڑ لیکن ہے اب تک وہیں کا وہیں

دیکھتا ہوں توآگے بھی رستے میں

بس موڑ ہی موڑ ہیںپیڑ کوئی نہیں

راستوں میں مجھے یوں تو مل جاتے ہیں مہرباںپھر بھی ہر موڑ پر

پوچھتا ہے یہ دلوہ جو اک چھاؤں تھی

کھو گئی ہے کہاں

— جاوید اختر