15 اشعار

جہنمی

Jahanumi

جہنمی

«جہنمی» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

میں اکثر سوچتا ہوںذہن کی تاریک گلیوں میں

دہکتا اور پگھلتادھیرے دھیرے آگے بڑھتا

غم کا یہ لاوااگر چاہوں

تو رک سکتا ہےمیرے دل کی کچی کھال پر رکھا یہ انگارا

اگر چاہوںتو بجھ سکتا ہے

لیکنپھر خیال آتا ہے

میرے سارے رشتوں میںپڑی ساری دراڑوں سے

گزر کے آنے والی برف سے ٹھنڈی ہوااور میری ہر پہچان پر سردی کا یہ موسم

کہیں ایسا نہ ہواس جسم کو اس روح کو ہی منجمد کر دے

میں اکثر سوچتا ہوںذہن کی تاریک گلیوں میں

دہکتا اور پگھلتادھیرے دھیرے آگے بڑھتا

غم کا یہ لاوااذیت ہے

مگر پھر بھی غنیمت ہےاسی سے روح میں گرمی

بدن میں یہ حرارت ہےیہ غم میری ضرورت ہے

میں اپنے غم سے زندہ ہوں

— جاوید اختر