20 اشعار

مری دعا ہے

Meri Dua Hai

مری دعا ہے

«مری دعا ہے» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

خلا کے گہرے سمندروں میںاگر کہیں کوئی ہے جزیرہ

جہاں کوئی سانس لے رہا ہےجہاں کوئی دل دھڑک رہا ہے

جہاں ذہانت نے علم کا جام پی لیا ہےجہاں کے باسی

خلا کے گہرے سمندروں میںاتارنے کو ہیں اپنے بیڑے

تلاش کرنے کوئی جزیرہجہاں کوئی سانس لے رہا ہے

جہاں کوئی دل دھڑک رہا ہےمری دعا ہے

کہ اس جزیرے میں رہنے والوں کے جسم کا رنگاس جزیرے کے رہنے والوں کے جسم کے جتنے رنگ ہیں

ان سے مختلف ہوبدن کی ہیئت بھی مختلف

اور شکل و صورت بھی مختلف ہومری دعا ہے

اگر ہے ان کا بھی کوئی مذہبتو اس جزیرے کے مذہبوں سے وہ مختلف ہو

مری دعا ہےکہ اس جزیرے کی سب زبانوں سے مختلف ہو زبان ان کی

مری دعا ہےخلا کے گہرے سمندروں سے گزر کے

اک دناس اجنبی نسل کے جہازی

خلائی بیڑے میںاس جزیرے تک آئیں

ہم ان کے میزباں ہوںہم ان کو حیرت سے دیکھتے ہوں

وہ پاس آ کرہمیں اشاروں سے یہ بتائیں

کہ ان سے ہم اتنے مختلف ہیںکہ ان کو لگتا ہے

اس جزیرے کے رہنے والےسب ایک سے ہیں

مری دعا ہےکہ اس جزیرے کے رہنے والے

اس اجنبی نسل کے کہے کا یقین کر لیں

— جاوید اختر