48 اشعار

بھوک

Bhook

بھوک

«بھوک» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر» میں 13 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 58 سیکنڈ ہے۔

آنکھ کھل گئی میریہو گیا میں پھر زندہ

پیٹ کے اندھیروں سےذہن کے دھندلکوں تک

ایک سانپ کے جیسارینگتا خیال آیا

آج تیسرا دن ہے۔۔۔۔۔۔ آج تیسرا دن ہےاک عجیب خاموشی

منجمد ہے کمرے میںایک فرش اور اک چھت

اور چار دیواریںمجھ سے بے تعلق سب

سب مرے تماشائیسامنے کی کھڑکی سے

تیز دھوپ کی کرنیںآ رہی ہیں بستر پر

چبھ رہی ہیں چہرے میںاس قدر نکیلی ہیں

جیسے رشتے داروں کےطنز میری غربت پر

آنکھ کھل گئی میریآج کھوکھلا ہوں میں

صرف خول باقی ہےآج میرے بستر میں

لیٹا ہے مرا ڈھانچہاپنی مردہ آنکھوں سے

دیکھتا ہے کمرے کوآج تیسرا دن ہے

آج تیسرا دن ہےدوپہر کی گرمی میں

بے ارادہ قدموں سےاک سڑک پہ چلتا ہوں

تنگ سی سڑک پر ہیںدونوں سمت دوکانیں

خالی خالی آنکھوں سےہر دکان کا تختہ

صرف دیکھ سکتا ہوںاب پڑھا نہیں جاتا

لوگ آتے جاتے ہیںپاس سے گزرتے ہیں

پھر بھی کتنے دھندلے ہیںسب ہیں جیسے بے چہرہ

شور ان دکانوں کاراہ چلتی اک گالی

ریڈیو کی آوازیںدور کی صدائیں ہیں

آ رہی میلوں سےجو بھی سن رہا ہوں میں

جو بھی دیکھتا ہوں میںخواب جیسا لگتا ہے

ہے بھی اور نہیں بھی ہےدوپہر کی گرمی میں

بے ارادہ قدموں سےاک سڑک پہ چلتا ہوں

سامنے کے نکڑ پرنل دکھائی دیتا ہے

سخت کیوں ہے یہ پانیکیوں گلے میں پھنستا ہے

میرے پیٹ میں جیسےگھونسہ ایک لگتا ہے

آ رہا ہے چکر ساجسم پر پسینہ ہے

اب سکت نہیں باقیآج تیسرا دن ہے

آج تیسرا دن ہےہر طرف اندھیرا ہے

گھاٹ پر اکیلا ہوںسیڑھیاں ہیں پتھر کی

سیڑھیوں پہ لیٹا ہوںاب میں اٹھ نہیں سکتا

آسماں کو تکتا ہوںآسماں کو تھالی میں

چاند ایک روٹی ہےجھک رہی ہیں اب پلکیں

ڈوبتا ہے یہ منظرہے زمین گردش میں

میرے گھر میں چولھا تھاروز کھانا پکتا تھا

روٹیاں سنہری ہیںگرم گرم یہ کھانا

کھل نہیں رہی آنکھیںکیا میں مرنے والا ہوں

ماں عجیب تھی میریروز اپنے ہاتھوں سے

مجھ کو وہ کھلاتی تھیکون سرد ہاتھوں سے

چھو رہا ہے چہرے کواک نوالا ہاتھی کا

اک نوالا گھوڑے کااک نوالا بھالو کا

موت ہے کہ بے ہوشیجو بھی غنیمت ہے

موت ہے کہ بے ہوشیجو بھی ہے غنیمت ہے

آج تیسرا دن تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج تیسرا دن تھا

— جاوید اختر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں