26 اشعار

پندرہ اگست

Pandrah August

پندرہ اگست

«پندرہ اگست» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 38 سیکنڈ ہے۔

یہی جگہ تھی یہی دن تھا اور یہی لمحاتسروں پہ چھائی تھی صدیوں سے اک جو کالی رات

اسی جگہ اسی دن تو ملی تھی اس کو ماتاسی جگہ اسی دن تو ہوا تھا یہ اعلان

اندھیرے ہار گئے زندہ باد ہندوستانیہیں تو ہم نے کہا تھا یہ کر دکھانا ہے

جو زخم تن پہ ہے بھارت کے اس کو بھرنا ہےجو داغ ماتھے پہ بھارت کے ہے مٹانا ہے

یہیں تو کھائی تھی ہم سب نے یہ قسم اس دنیہیں سے نکلے تھے اپنے سفر پہ ہم اس دن

یہیں تھا گونج اٹھا وندے ماترم اس دنہے جرأتوں کا سفر وقت کی ہے راہ گزر

نظر کے سامنے ہے ساٹھ میل کا پتھرکوئی جو پوچھے کیا کیا ہے کچھ کیا ہے اگر

تو اس سے کہہ دو کہ وہ آئے دیکھ لے آ کرلگایا ہم نے تھا جمہوریت کا جو پودھا

وہ آج ایک گھنیرا سا اونچا برگد ہےاور اس کے سائے میں کیا بدلا کتنا بدلا ہے

کب انتہا ہے کوئی اس کی کب کوئی حد ہےچمک دکھاتے ہیں ذرے اب آسمانوں کو

زبان مل گئی ہے سارے بے زبانوں کوجو ظلم سہتے تھے وہ اب حساب مانگتے ہیں

سوال کرتے ہیں اور پھر جواب مانگتے ہیںیہ کل کی بات ہے صدیوں پرانی بات نہیں

کہ کل تلک تھا یہاں کچھ بھی اپنے ہاتھ نہیںودیشی راج نے سب کچھ نچوڑ ڈالا تھا

ہمارے دیش کا ہر کرگھا توڑ ڈالا تھاجو ملک سوئی کی خاطر تھا اوروں کا محتاج

ہزاروں چیزیں وہ دنیا کو دے رہا ہے آجنیا زمانہ لیے اک امنگ آیا ہے

کروڑوں لوگوں کے چہرے پہ رنگ آیا ہےیہ سب کسی کے کرم سے نہ ہے عنایت سے

یہاں تک آیا ہے بھارت خود اپنی محنت سےجو کامیابی ہے اس کی خوشی تو پوری ہے

مگر یہ یاد بھی رکھنا بہت ضروری ہےکہ داستان ہماری ابھی ادھوری ہے

بہت ہوا ہے مگر پھر بھی یہ کمی تو ہےبہت سے ہونٹھوں پہ مسکان آ گئی لیکن

بہت سی آنکھیں ہے جن میں ابھی نمی تو ہےیہی جگہ تھی یہی دن تھا اور یہی لمحات

یہیں تو دیکھا تھا اک خواب سوچی تھی اک باتمسافروں کے دلوں میں خیال آتا ہے

ہر اک ضمیر کے آگے سوال آتا ہےوہ بات یاد ہے اب تک ہمیں کہ بھول گئے

وہ خواب اب بھی سلامت ہے یا فضول گئےچلے تھے دل میں لئے جو ارادے پورے ہوئے

یہ کون ہے کہ جو یادوں میں چرخا کاتتا ہےیہ کون ہے جو ہمیں آج بھی بتاتا ہے

ہے وعدہ خود سے نبھانا ہمیں اگر اپناتو کارواں نہیں رک پائے بھول کر اپنا

ہے تھوڑی دور ابھی سپنوں کا نگر اپنامسافرو ابھی باقی ہے کچھ سفر اپنا

— جاوید اختر