20 اشعار

شبانہ

Shabana

شبانہ

«شبانہ» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 36 سیکنڈ ہے۔

یہ آئے دن کے ہنگامےیہ جب دیکھو سفر کرنا

یہاں جانا وہاں جانااسے ملنا اسے ملنا

ہمارے سارے لمحےایسے لگتے ہیں

کہ جیسے ٹرین کے چلنے سے پہلےریلوے اسٹیشن پر

جلدی جلدی اپنے ڈبے ڈھونڈتےکوئی مسافر ہوں

جنہیں کب سانس بھی لینے کی مہلت ہےکبھی لگتا ہے

تم کو مجھ سے مجھ کو تم سے ملنے کاخیال آئے

کہاں اتنی بھی فرصت ہےمگر جب سنگ دل دنیا میرا دل توڑتی ہے تو

کوئی امید چلتے چلتےجب منہ موڑتی ہے تو

کبھی کوئی خوشی کا پھولجب اس دل میں کھلتا ہے

کبھی جب مجھ کو اپنے ذہن سےکوئی خیال انعام ملتا ہے

کبھی جب اک تمنا پوری ہونے سےیہ دل خالی سا ہوتا ہے

کبھی جب درد آ کے پلکوں پہ موتی پروتا ہےتو یہ احساس ہوتا ہے

خوشی ہو غم ہو حیرت ہوکوئی جذبہ ہو

اس میں جب کہیں اک موڑ آئے تووہاں پل بھر کو

ساری دنیا پیچھے چھوٹ جاتی ہےوہاں پل بھر کو

اس کٹھ پتلی جیسی زندگی کیڈوری ٹوٹ جاتی ہے

مجھے اس موڑ پربس اک تمہاری ہی ضرورت ہے

مگر یہ زندگی کی خوب صورت اک حقیقت ہےکہ میری راہ میں جب ایسا کوئی موڑ آیا ہے

تو ہر اس موڑ پر میں نےتمہیں ہمراہ پایا ہے

— جاوید اختر