5 اشعار

درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں

Dard ke phool bhi khilte hain bikhar jaate hain

درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں

«درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیںزخم کیسے بھی ہوں کچھ روز میں بھر جاتے ہیں

راستہ روکے کھڑی ہے یہی الجھن کب سےکوئی پوچھے تو کہیں کیا کہ کدھر جاتے ہیں

چھت کی کڑیوں سے اترتے ہیں مرے خواب مگرمیری دیواروں سے ٹکرا کے بکھر جاتے ہیں

نرم الفاظ بھلی باتیں مہذب لہجےپہلی بارش ہی میں یہ رنگ اتر جاتے ہیں

اس دریچے میں بھی اب کوئی نہیں اور ہم بھیسر جھکائے ہوئے چپ چاپ گزر جاتے ہیں

— جاوید اختر