24 اشعار

دوراہا

Doraaha

دوراہا

«دوراہا» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 8 منٹ 28 سیکنڈ ہے۔

یہ جیون اک راہ نہیںاک دوراہا ہے

پہلا رستہبہت سہل ہے

اس میں کوئی موڑ نہیں ہےیہ رستہ

اس دنیا سے بے جوڑ نہیں ہےاس رستے پر ملتے ہیں

ریتوں کے آنگناس رستے پر ملتے ہیں

رشتوں کے بندھناس رستے پر چلنے والے

کہنے کو سب سکھ پاتے ہیںلیکن

ٹکڑے ٹکڑے ہو کرسب رشتوں میں بٹ جاتے ہیں

اپنے پلے کچھ نہیں بچتابچتی ہے

بے نام سی الجھنبچتا ہے

سانسوں کا ایندھنجس میں ان کی اپنی ہر پہچان

اور ان کے سارے سپنےجل بجھتے ہیں

اس رستے پر چلنے والےخود کو کھو کر جگ پاتے ہیں

اوپر اوپر تو جیتے ہیںاندر اندر مر جاتے ہیں

دوسرا رستہبہت کٹھن ہے

اس رستے میںکوئی کسی کے ساتھ نہیں ہے

کوئی سہارا دینے والا نہیں ہےاس رستے میں

دھوپ ہےکوئی چھاؤں نہیں ہے

جہاں تسلی بھیک میں دے دے کوئی کسی کواس رستے میں

ایسا کوئی گاؤں نہیں ہےیہ ان لوگوں کا رستا ہے

جو خود اپنے تک جاتے ہیںاپنے آپ کو جو پاتے ہیں

تم اس رستے پر ہی چلنامجھے پتا ہے

یہ رستہ آسان نہیں ہےلیکن مجھ کو یہ غم بھی ہے

تم کو اب تککیوں اپنی پہچان نہیں ہے

— جاوید اختر