23 اشعار

نیا حکم نامہ

Naya Hukm Nama

نیا حکم نامہ

«نیا حکم نامہ» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 41 سیکنڈ ہے۔

کسی کا حکم ہے ساری ہوائیںہمیشہ چلنے سے پہلے بتائیں

کہ ان کی سمت کیا ہےکدھر جا رہی ہیں

ہواؤں کو بتانا یہ بھی ہوگاچلیں گی اب تو کیا رفتار ہوگی

ہواؤں کو یہ اجازت نہیں ہےکہ آندھی کی اجازت اب نہیں ہے

ہماری ریت کی سب یہ فصیلیںیہ کاغذ کے محل جو بن رہے ہیں

حفاظت ان کی کرنا ہے ضروریاور آندھی ہے پرانی ان کی دشمن

یہ سبھی جنتے ہیںکسی کا حکم ہے دریا کی لہریں

ذرا یہ سرکشی کم کر لیں اپنی حد میں ٹھہریںابھرنا پھر بکھرنا اور بکھر کر پھر ابھرنا

غلط ہے یہ ان کا ہنگامہ کرنایہ سب ہے صرف وحشت کی علامت

بغاوت کی علامتبغاوت تو نہیں برداشت ہوگی

یہ وحشت تو نہیں برداشت ہوگیاگر لہروں کو ہے دریا میں رہنا

تو ان کو ہوگا اب چپ چاپ بہناکسی کا حکم ہے

اس گلستاں میں بس اک رنگ کے ہی پھول ہوں گےکچھ افسر ہوں گے جو یہ طے کریں گے

گلستاں کس طرح بننا ہے کل کایقیناً پھول تو یک رنگیں ہوں گے

مگر یہ رنگ ہوگا کتنا گہرا کتنا ہلکایہ افسر طے کریں گے

کسی کو یہ کوئی کیسے بتائےگلستاں میں کہیں بھی پھول یک رنگیں نہیں ہوتے

کبھی ہو ہی نہیں سکتےکہ ہر اک رنگ میں چھپ کر بہت سے رنگ رہتے ہیں

جنھوں نے باغ یک رنگیں بنانا چاہے تھےان کو ذرا دیکھو

کہ جب اک رنگ میں سو رنگ ظاہر ہو گئے ہیں توکتنے پریشاں ہیں کتنے تنگ رہتے ہیں

کسی کو یہ کوئی کیسے بتائےہوائیں اور لہریں کب کسی کا حکم سنتی ہیں

ہوائیں حاکموں کی مٹھیوں میں ہتھکڑی میںقید خانوں میں نہیں رکتیں

یہ لہریں روکی جاتی ہیںتو دریا کتنا بھی ہو پر سکوں بیتاب ہوتا ہے

اور اس بیتابی کا اگلا قدم سیلاب ہوتا ہے

— جاوید اختر