5 اشعار

دکھ کے جنگل میں پھرتے ہیں کب سے مارے مارے لوگ

Dukh ke jangal mein phirte hain kab se mare mare log

دکھ کے جنگل میں پھرتے ہیں کب سے مارے مارے لوگ

«دکھ کے جنگل میں پھرتے ہیں کب سے مارے مارے لوگ» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

دکھ کے جنگل میں پھرتے ہیں کب سے مارے مارے لوگجو ہوتا ہے سہہ لیتے ہیں کیسے ہیں بے چارے لوگ

جیون جیون ہم نے جگ میں کھیل یہی ہوتے دیکھادھیرے دھیرے جیتی دنیا دھیرے دھیرے ہارے لوگ

وقت سنگھاسن پر بیٹھا ہے اپنے راگ سناتا ہےسنگت دینے کو پاتے ہیں سانسوں کے اکتارے لوگ

نیکی اک دن کام آتی ہے ہم کو کیا سمجھاتے ہوہم نے بے بس مرتے دیکھے کیسے پیارے پیارے لوگ

اس نگری میں کیوں ملتی ہے روٹی سپنوں کے بدلےجن کی نگری ہے وہ جانیں ہم ٹھہرے بنجارے لوگ

— جاوید اختر