5 اشعار

غم ہوتے ہیں جہاں ذہانت ہوتی ہے

Gham hote hain jahan zehanat hoti hai

غم ہوتے ہیں جہاں ذہانت ہوتی ہے

«غم ہوتے ہیں جہاں ذہانت ہوتی ہے» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

غم ہوتے ہیں جہاں ذہانت ہوتی ہےدنیا میں ہر شے کی قیمت ہوتی ہے

اکثر وہ کہتے ہیں وہ بس میرے ہیںاکثر کیوں کہتے ہیں حیرت ہوتی ہے

تب ہم دونوں وقت چرا کر لاتے تھےاب ملتے ہیں جب بھی فرصت ہوتی ہے

اپنی محبوبہ میں اپنی ماں دیکھیںبن ماں کے لڑکوں کی فطرت ہوتی ہے

اک کشتی میں ایک قدم ہی رکھتے ہیںکچھ لوگوں کی ایسی عادت ہوتی ہے

— جاوید اختر