5 اشعار

ہم نے ڈھونڈیں بھی تو ڈھونڈیں ہیں سہارے کیسے

Hum ne dhoondhin bhi to dhoondhin hain sahare kaise

ہم نے ڈھونڈیں بھی تو ڈھونڈیں ہیں سہارے کیسے

«ہم نے ڈھونڈیں بھی تو ڈھونڈیں ہیں سہارے کیسے» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

ہم نے ڈھونڈیں بھی تو ڈھونڈیں ہیں سہارے کیسےان سرابوں پہ کوئی عمر گزارے کیسے

ہاتھ کو ہاتھ نہیں سوجھے وہ تاریکی تھیآ گئے ہاتھ میں کیا جانے ستارے کیسے

ہر طرف شور اسی نام کا ہے دنیا میںکوئی اس کو جو پکارے تو پکارے کیسے

دل بجھا جتنے تھے ارمان سبھی خاک ہوئےراکھ میں پھر یہ چمکتے ہیں شرارے کیسے

نہ تو دم لیتی ہے تو اور نہ ہوا تھمتی ہےزندگی زلف تری کوئی سنوارے کیسے

— جاوید اختر