7 اشعار

ہمارے شوق کی یہ انتہا تھی

Hamare shauq ki yeh inteha thi

ہمارے شوق کی یہ انتہا تھی

«ہمارے شوق کی یہ انتہا تھی» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

ہمارے شوق کی یہ انتہا تھیقدم رکھا کہ منزل راستا تھی

بچھڑ کے ڈار سے بن بن پھرا وہہرن کو اپنی کستوری سزا تھی

کبھی جو خواب تھا وہ پا لیا ہےمگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی

میں بچپن میں کھلونے توڑتا تھامرے انجام کی وہ ابتدا تھی

محبت مر گئی مجھ کو بھی غم ہےمرے اچھے دنوں کی آشنا تھی

جسے چھو لوں میں وہ ہو جائے سوناتجھے دیکھا تو جانا بد دعا تھی

مریض خواب کو تو اب شفا ہےمگر دنیا بڑی کڑوی دوا تھی

— جاوید اختر