19 اشعار

ہمسائے کے نام

Hamsaaye Ke Naam

ہمسائے کے نام

«ہمسائے کے نام» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 33 سیکنڈ ہے۔

کچھ تم نے کہاکچھ میں نے کہا

اور بڑھتے بڑھتے بات بڑھیدل اوب گیا

دل ڈوب گیااور گہری کالی رات بڑھی

تم اپنے گھرمیں اپنے گھر

سارے دروازے بند کئےبیٹھے ہیں کڑوے گھونٹ پئے

اوڑھے ہیں غصے کی چادرکچھ تم سوچو

کچھ میں سوچوںکیوں اونچی ہیں یہ دیواریں

کب تک ہم ان پر سر ماریںکب تک یہ اندھیرے رہنے ہیں

کینہ کے یہ گھیرے رہنے ہیںچلو اپنے دروازے کھولیں

اور گھر کے باہر آئیں ہمدل ٹھہرے جہاں ہیں برسوں سے

وہ اک نکڑ ہے نفرت کاکب تک اس نکڑ پر ٹھہریں

اب اس کے آگے جائیں ہمبس تھوڑی دور اک دریا ہے

جہاں ایک اجالا بہتا ہےواں لہروں لہروں ہیں کرنیں

اور کرنوں کرنوں ہیں لہریںان کرنوں میں

ان لہروں میںہم دل کو خوب نہانے دیں

سینوں میں جو اک پتھر ہےاس پتھر کو گھل جانے دیں

دل کے اک کونے میں بھی چھپیگر تھوڑی سی بھی نفرت ہے

اس نفرت کو دھل جانے دیںدونوں کی طرف سے جس دن بھی

اظہار ندامت کا ہوگاتب جشن محبت کا ہوگا

— جاوید اختر