27 اشعار

کچی بستی

Kachchi Basti

کچی بستی

«کچی بستی» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 5 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

گلیاںاور گلیوں میں گلیاں

چھوٹے گھرنیچے دروازے

ٹاٹ کے پردےمیلی بد رنگی دیواریں

دیواروں سے سر ٹکراتیکوئی گالی

گلیوں کے سینے پر بہتیگندی نالی

گلیوں کے ماتھے پر بہتاآوازوں کا گندہ نالا

آوازوں کی بھیڑ بہت ہےانسانوں کی بھیڑ بہت ہے

کڑوے اور کسیلے چہرےبد حالی کے زہر سے ہیں زہریلے چہرے

بیماری سے پیلے چہرےمرتے چہرے

ہارے چہرےبے بس اور بے چارے چہرے

سارے چہرےایک پہاڑی کچرے کی

اور اس پر پھرتےآوارہ کتوں سے بچے

اپنا بچپن ڈھونڈ رہے ہیںدن ڈھلتا ہے

اس بستی میں رہنے والےاوروں کی جنت کو اپنی محنت دے کر

اپنے جہنم کی جانباب تھکے ہوئے

جھنجھلائے ہوئے سےلوٹ رہے ہیں

ایک گلی میںزنگ لگے پیپے رکھے ہیں

کچی دارو مہک رہی ہےآج سویرے سے

بستی میںقتل و خوں کا

چاقو زنی کاکوئی قصہ نہیں ہوا ہے

خیرابھی تو شام ہے

پوری رات پڑی ہےیوں لگتا ہے

ساری بستیجیسے اک دکھتا پھوڑا ہے

یوں لگتا ہےساری بستی

جیسے ہے اک جلتا کڑھاؤیوں لگتا ہے

جیسے خدا نکڑ پر بیٹھاٹوٹے پھوٹے انساں

اونے پونے داموںبیچ رہا ہے!

— جاوید اختر