5 اشعار

ہم تو بچپن میں بھی اکیلے تھے

Hum to bachpan mein bhi akele the

ہم تو بچپن میں بھی اکیلے تھے

«ہم تو بچپن میں بھی اکیلے تھے» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 29 سیکنڈ ہے۔

ہم تو بچپن میں بھی اکیلے تھےصرف دل کی گلی میں کھیلے تھے

اک طرف مورچے تھے پلکوں کےاک طرف آنسوؤں کے ریلے تھے

تھیں سجی حسرتیں دکانوں پرزندگی کے عجیب میلے تھے

خود کشی کیا دکھوں کا حل بنتیموت کے اپنے سو جھمیلے تھے

ذہن و دل آج بھوکے مرتے ہیںان دنوں ہم نے فاقے جھیلے تھے

— جاوید اختر