6 اشعار

جینا مشکل ہے کہ آسان ذرا دیکھ تو لو

Jeena mushkil hai ke asaan zara dekh to lo

جینا مشکل ہے کہ آسان ذرا دیکھ تو لو

«جینا مشکل ہے کہ آسان ذرا دیکھ تو لو» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر» میں 13 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

جینا مشکل ہے کہ آسان ذرا دیکھ تو لولوگ لگتے ہیں پریشان ذرا دیکھ تو لو

پھر مقرر کوئی سرگرم سر منبر ہےکس کے ہے قتل کا سامان ذرا دیکھ تو لو

یہ نیا شہر تو ہے خوب بسایا تم نےکیوں پرانا ہوا ویران ذرا دیکھ تو لو

ان چراغوں کے تلے ایسے اندھیرے کیوں ہےتم بھی رہ جاؤ گے حیران ذرا دیکھ تو لو

تم یہ کہتے ہو کہ میں غیر ہوں پھر بھی شایدنکل آئے کوئی پہچان ذرا دیکھ تو لو

یہ ستائش کی تمنا یہ صلے کی پرواہکہاں لائے ہیں یہ ارمان ذرا دیکھ تو لو

— جاوید اختر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں