5 اشعار

جسم دمکتا، زلف گھنیری، رنگیں لب، آنکھیں جادو

Jism damakta, zulf ghaneri, rangin lab, aankhein jadoo

جسم دمکتا، زلف گھنیری، رنگیں لب، آنکھیں جادو

«جسم دمکتا، زلف گھنیری، رنگیں لب، آنکھیں جادو» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

جسم دمکتا، زلف گھنیری، رنگیں لب، آنکھیں جادوسنگ مرمر، اودا بادل، سرخ شفق، حیراں آہو

بھکشو دانی، پیاسا پانی، دریا ساگر، جل گاگرگلشن خوشبو، کوئل کوکو، مستی دارو، میں اور تو

بانبی ناگن، چھایا آنگن، گھنگھرو چھن چھن، آشا منآنکھیں کاجل، پربت بادل، وہ زلفیں اور یہ بازو

راتیں مہکی، سانسیں دہکی، نظریں بہکی، رت لہکیسپن سلونا، پریم کھلونا، پھول بچھونا، وہ پہلو

تم سے دوری، یہ مجبوری، زخم کاری، بیداری،تنہا راتیں، سپنے کاتیں، خود سے باتیں، میری خو

— جاوید اختر