5 اشعار

جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتا

Jidhar jaate hain sab jaana udhar achha nahin lagta

جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتا

«جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتا» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر» میں 13 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتامجھے پامال رستوں کا سفر اچھا نہیں لگتا

غلط باتوں کو خاموشی سے سننا حامی بھر لینابہت ہیں فائدے اس میں مگر اچھا نہیں لگتا

مجھے دشمن سے بھی خودداری کی امید رہتی ہےکسی کا بھی ہو سر قدموں میں سر اچھا نہیں لگتا

بلندی پر انہیں مٹی کی خوشبو تک نہیں آتییہ وہ شاخیں ہیں جن کو اب شجر اچھا نہیں لگتا

یہ کیوں باقی رہے آتش زنو یہ بھی جلا ڈالوکہ سب بے گھر ہوں اور میرا ہو گھر اچھا نہیں لگتا

— جاوید اختر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں